ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سی بی ایس ای پیپر لیک:میں طلبہ کے درد کو سمجھتا ہوں، مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا:جاوڑیکر

سی بی ایس ای پیپر لیک:میں طلبہ کے درد کو سمجھتا ہوں، مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا:جاوڑیکر

Fri, 30 Mar 2018 00:36:41    S.O. News Service

نئی دہلی،29؍مارچ ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سی بی ایس ای کی 10 ویں اور 12 ویں کلاس کے پیپر لیک معاملہ میں دہلی کے ایک کوچنگ ادارے کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس معاملہ میں سی بی ایس ای نے دہلی پولیس کو خط لکھا ہے۔ سی بی ایس ای کے علاقائی ڈائریکٹر کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ کسی نے انہیں 23 مارچ کو فیکس کیا، جس میں پیپر لیک معاملہ میں وکی نام کے ایک شخص کا ہاتھ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ وکی دلی کے راجندر نگر کے سیکٹر 8 میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلاتا ہے۔ شکایتی خط میں بورڈ کو بتایا گیا کہ پیپر لیک میں راجندر نگر کے دو اسکول بھی شامل ہیں۔اس معاملہ پر پریس کانفرنس کرکے پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ میں والدین اور طالب علموں کے درد کو سمجھ سکتا ہوں۔ میں بھی نہیں سو سکا۔ اس پیپر لیک معاملہ میں جو بھی قصوروار ہوں گے انہیں بخشا نہیں جائے گا۔فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر جاوڈیکر نے کہا کہ پولیس جلد ہی مجرموں کو اپنی گرفت میں لے لے گی۔ ایس ایس سی کے معاملے میں پولیس نے جس طرح سے ملزموں کو گرفتار کیا ہے ویسے ہی اس معاملہ میں بھی گرفتاری ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی سی بی ایس ای کی تعریف کی ہے۔ ہم اس کی تہہ تک جائیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آگے سے کوئی ایسی دھوکہ دھڑی نہیں ہوگی۔ ہم نظام کو بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی ایس ای جلد ہی پیر یا منگل کو نئی تاریخوں کا اعلان کرے گی۔وہیں، سی بی ایس ایس پیپر لیک کیس میں کانگریس نے مرکزی حکومت سے جمعرات کو کئی سوالات پوچھے ہیں۔ اس معاملے میں حکومت پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ سرکاری تحفظ میں پیپر لیک ہو رہا ہے۔ کانگریس کے رہنما رندیپ سرجیوالا نے کہا، ویاپم اور ایس ایس سی کے بعد سی بی ایس ای کے تین پیپر لیک ہو گئے ہیں۔ طالب علموں کی مانیں تو ابھی کچھ اور پیپر لیک ہونے کا اندیشہ ہے۔ 2017 میں 12 ویں کلاس کے امتحان میں بھی شکایت موصول ہوئی تھی۔ سرجیوالا نے پوچھا، کیا وجہ ہے کہ سی بی ایس ای کے چیئرمین کا عہدہ گزشتہ دو سالوں سے خالی پڑا تھا؟


Share: